گومل یونیورسٹی میں 71 بھرتیوں و ترقیوں پر سنگین سوالات، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

گومل یونیورسٹی میں 71 بھرتیوں و ترقیوں پر سنگین سوالات، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، ترقیوں اور سلیکشن کے عمل میں بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں 71 افراد کی گریڈ 18، 19 اور 21 میں تقرریوں و ترقیوں پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متعدد امیدواروں کے سلیکشن ریکارڈ میں مبینہ طور پر اکیڈمک اور انٹرویو نمبروں میں غیر معمولی اضافہ یا کمی کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض امیدوار مطلوبہ تعلیمی قابلیت، تجربے یا دیگر مقررہ شرائط پر پورا نہیں اترتے تھے۔

رپورٹ میں کئی کیسز میں سکروٹنی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے اور سلیکشن کے فیصلوں کی اصل دستاویزات سے دوبارہ تصدیق کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک امیدوار کے اکیڈمک نمبرز سکروٹنی ریکارڈ میں 21.76 جبکہ منٹس میں 31.76 درج کیے گئے، جس سے مبینہ طور پر 10 نمبروں کا فرق سامنے آیا۔

اسی طرح دیگر امیدواروں کے نمبروں میں 3، 5، 6 اور 15 سمیت مختلف نمبروں کے اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں ان معاملات کی مکمل دستاویزی جانچ، متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق اور سلیکشن کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا تعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد گومل یونیورسٹی میں بھرتیوں اور ترقیوں کے طریقہ کار، میرٹ اور شفافیت سے متعلق سوالات مزید اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

More News