ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے درآمد شدہ اور مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے، جس کا مقصد ماحول دوست گاڑیوں کو عام شہریوں کی قوت خرید میں لانا اور ملک میں صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تجویز کی سمری وزارتِ خزانہ کو بھجوا دی گئی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری ضروری ہوگی۔
یاد رہے کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر پہلے حاصل ٹیکس رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد یکم جولائی سے سیلز ٹیکس بڑھ کر 25 فیصد ہوگیا۔ ٹیکس میں اضافے کے نتیجے میں ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ان کی فروخت بھی متاثر ہوئی۔
ہائبرڈ گاڑیاں پیٹرول اور بجلی دونوں سے چلتی ہیں، جس کے باعث یہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کم ایندھن استعمال کرتی اور فضائی آلودگی میں کمی لانے میں مدد دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر ہائبرڈ گاڑیوں کا فروغ ماحول کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس میں مجوزہ کمی سے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے اور ان کی طلب میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ مقامی آٹو صنعت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی یہ فیصلہ نئی سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹیکس ریلیف سے ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ کو فروغ، روزگار کے نئے مواقع اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ متوقع ہے۔ اگر وفاقی کابینہ نے تجویز کی منظوری دے دی تو ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا نیا ریٹ نافذ کیا جا سکتا ہے۔








