ہومیو پیتھک احتجاجوں سے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، منظم تحریک ہی مؤثر ثابت ہوگی، مشتاق احمد غنی
ایبٹ آباد: سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ علامتی یا محدود نوعیت کے احتجاجوں سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے منظم، مربوط اور مؤثر عوامی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔
ویڈیو بیان میں مشتاق احمد غنی نے کہا کہ پریس کلبوں، ہائی کورٹ یا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق عمران خان کی رہائی کے لیے واضح حکمت عملی، مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور کارکنوں کی بھرپور شمولیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہی ہیں، جہاں وہ کارکنوں اور عوام سے ملاقاتیں اور اجتماعات سے خطاب کریں گی۔ مشتاق احمد غنی کے مطابق اتوار کے روز ایبٹ آباد کے فوارہ چوک میں علیمہ خان کے استقبال کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان بٹگرام، ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت مختلف علاقوں میں پارٹی کارکنوں سے ملاقات کریں گی اور عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ تحریک کے حوالے سے مشاورت بھی کریں گی۔
مشتاق احمد غنی نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن ہمیشہ سے تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی مرکز رہا ہے اور آئندہ بھی کارکن اپنے قائد کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام عہدیداروں اور منتخب نمائندوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت قید میں ہیں اور انہیں علاج، ملاقاتوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے پارٹی قیادت اور کارکنوں کو متحد ہو کر ان کی رہائی کے لیے بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے۔
سابق اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر پارٹی قیادت کی جانب سے اڈیالہ جیل یا اسلام آباد کے ڈی چوک کی طرف مارچ کی کال دی گئی تو ہزارہ ڈویژن کے کارکن بھرپور تعداد میں شریک ہوں گے اور علیمہ خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف کے کارکن اپنے قائد کی رہائی کے لیے ہر جمہوری اور آئینی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کو کامیاب بنانے کے لیے متحد رہیں گے۔








