ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.15 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی

اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات نے اگست 2026 کے دوسرے ہفتے کے دوران مہنگائی سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کردیئے، جس کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 51 اشیائے ضروریہ میں سے ایک ہفتے کے دوران 20 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 9 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 22 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

ہفتہ وار بنیاد پر پیاز کی قیمت میں سب سے نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پیاز 24.68 فیصد مہنگی ہوئی۔ اسی طرح چنے کی دال کی قیمت میں 3.35 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 2.45 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 0.67 فیصد مہنگی ہوئی۔ چائے، سرسوں کا تیل، دہی اور مسور کی دال بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔

دوسری جانب کچھ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر پیٹرول کی قیمت میں 2.35 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ٹماٹر 1.26 فیصد، آلو 0.73 فیصد اور ڈیزل 0.29 فیصد سستا ہوا۔ کیلے، مونگ کی دال، انڈے اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

سالانہ بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کی صورتحال مزید نمایاں رہی۔ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 143.77 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا، جبکہ پیاز 125.75 فیصد اور گندم کا آٹا 77.41 فیصد مہنگا ہوگیا۔

اسی عرصے میں ایل پی جی کی قیمت میں 55.41 فیصد، ڈیزل میں 34.05 فیصد اور پیٹرول میں 23.02 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کیلے، مرچ پاؤڈر، مٹن اور بیف سمیت دیگر اشیاء بھی سالانہ بنیاد پر مہنگی ہوئیں۔

تاہم بعض اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ کمی بھی دیکھی گئی۔ آلو 30 فیصد سستا ہوا، جبکہ چینی کی قیمت میں 17.93 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 17.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چنے کی دال، انڈے اور مونگ کی دال بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں سستی رہیں۔

تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مجموعی مہنگائی کا دباؤ بدستور موجود ہے، جبکہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام صارفین کے گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔

More News