لاہور میں سپارکو کا تیسرا علاقائی سمپوزیم، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور
لاہور: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے تیسرا علاقائی سمپوزیم لاہور میں منعقد ہوا۔
’’Space4Climate – Waterways & Land Cover Dynamics, Crop Monitoring, Air Quality/Smog and Heatwave Hazard Assessment‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سمپوزیم میں سرکاری حکام، پالیسی سازوں، سائنس دانوں، محققین، ماہرین تعلیم، ترقیاتی شراکت داروں اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی۔
تقریب کا مقصد موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے لیے خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ یہ پروگرام سپارکو کی Space4Climate Initiative کے تحت ملک کے سات شہروں میں منعقد ہونے والی سمپوزیم سیریز کا تیسرا مرحلہ تھا۔
سمپوزیم میں پنجاب کو درپیش موسمیاتی خطرات، جن میں سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی، قدرتی آفات اور پانی کے وسائل میں تبدیلی شامل ہیں، پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سیلاب، خشک سالی، فضائی آلودگی اور زراعت و آبی وسائل پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس، ریموٹ سینسنگ، جیو اسپیشل اینالیٹکس اور جغرافیائی معلوماتی نظام موسمیاتی تبدیلی کی مسلسل اور غیر جانب دار نگرانی کے لیے انتہائی اہم ہوچکے ہیں۔
سمپوزیم میں Space4Climate Geospatial Portals کا لائیو مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کو صوبائی اور قومی سطح پر پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پورٹل میں مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ ڈیٹا کو مربوط کیا گیا ہے، جس کے ذریعے گلیشیئرز، برفانی غلاف، آبی گزرگاہوں، زمینی احاطے، فضائی معیار، گرین ہاؤس گیسز اور دیگر ماحولیاتی اشاریوں سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
تکنیکی سیشنز میں فصلوں کی نگرانی، فضائی آلودگی، ہیٹ ویو کے خطرات، آبی وسائل، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں خلائی ٹیکنالوجی کے کردار پر ماہرین نے پریزنٹیشنز دیں۔
اختتام پر سرکاری اداروں میں Space4Climate خدمات کے استعمال، جیو اسپیشل ٹیکنالوجی میں استعداد کار بڑھانے اور شواہد پر مبنی موسمیاتی پالیسی سازی کے لیے ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے کی سفارشات پیش کی گئیں۔








