پشاور میں 27 ہاؤسنگ سوسائٹیز پر پابندی، شہریوں کو سرمایہ کاری سے روک دیا گیا
پشاور: تحصیل شاہ عالم انتظامیہ نے پشاور میں 27 ہاؤسنگ سوسائٹیز اور پلاٹنگ اسکیموں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہریوں کو ان میں سرمایہ کاری اور پلاٹوں کی خریداری سے گریز کرنے کی ہدایت کردی۔
انتظامیہ کے مطابق شہری سٹی ریزیڈینشیا، نیو قرطبہ ماڈل ٹاؤن، اولڈ قرطبہ ماڈل ٹاؤن، ڈاکٹرز کالونی، گلستان کالونی، خیبر ٹاؤن اور المدینہ کالونی سمیت غیر قانونی قرار دی گئی اسکیموں میں پلاٹ بک نہ کروائیں۔
حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں میں زمین کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم یا پلاٹنگ منصوبے میں سرمایہ کاری سے قبل متعلقہ اداروں سے اس کا این او سی (NOC) لازمی چیک کریں۔
غیر قانونی قرار دی گئی اسکیموں میں بابوزئی گارڈن، اوورسیز کالونی، الرشید پلاٹنگ، قاری مستقیم پلاٹنگ، ملک آباد کالونی، ناظم جاوید و مقصود پلاٹنگ، حاجی شفاعت و قدیم پلاٹنگ اور گلشنِ مدینہ کالونی بھی شامل ہیں۔
انتظامیہ کی جاری کردہ فہرست کے مطابق ڈاکٹر غلام نبی و محمد امین پلاٹنگ، ملک زاہد پلاٹنگ، اکبر ایسوسی ایٹس پلاٹنگ، حاجی نور بشر و سمین گل پلاٹنگ، حاجی نعیم پلاٹنگ، وزیر پلاٹنگ، احتشام، اسد و دلروز پلاٹنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ حاجی گل داد و اعجاز خان پلاٹنگ، نیو گل کالونی، ایاز خان پلاٹنگ، عقر پلاٹنگ اور فرید پلاٹنگ بھی فہرست میں شامل ہیں۔
تحصیل شاہ عالم انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے سے انہیں مستقبل میں قانونی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ کسی بھی پلاٹ یا زمین کی خریداری سے پہلے متعلقہ سرکاری اداروں سے اسکیم کی قانونی حیثیت، منظوری اور این او سی کی مکمل تصدیق کریں تاکہ ممکنہ فراڈ اور مالی نقصان سے بچا جاسکے۔





