سی ڈی ڈبلیو پی نے 60 ارب 25 کروڑ روپے کے 5 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت اجلاس، 11 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کے 3 منصوبے منظور، گوادر اور کراچی کے 48 ارب 54 کروڑ روپے کے 2 منصوبے ایکنک کو ارسال
اسلام آباد: سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے مجموعی طور پر 60 ارب 25 کروڑ روپے مالیت کے پانچ اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جبکہ گوادر اور کراچی سے متعلق دو بڑے منصوبے حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 11 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے تین منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ 48 ارب 54 کروڑ روپے مالیت کے دو بڑے منصوبے ایکنک کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
منظور کیے جانے والے منصوبوں میں گلگت میں میڈیکل اینڈ نرسنگ کالج کا قیام بھی شامل ہے، جس پر تقریباً 4 ارب 92 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کا مقصد گلگت بلتستان میں طبی اور نرسنگ تعلیم کے مواقع میں اضافہ اور مقامی سطح پر تربیت یافتہ طبی عملے کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔
اجلاس میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) اسلام آباد کیمپس سے متعلق 2 ارب 75 کروڑ روپے کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ضلع اورکزئی میں تقریباً 53 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے مالیت کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کو ملک کی معیشت اور برآمدات سے متعلق اہم تحقیقی کام کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ یونیورسٹی کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت اور 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے اہداف کے حصول کے لیے تحقیق اور پالیسی سفارشات تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
دوسری جانب سی ڈی ڈبلیو پی نے 48 ارب 54 کروڑ روپے مالیت کے دو بڑے منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو ارسال کر دیے۔ ان میں کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پراجیکٹ شامل ہے، جس کی لاگت 19 ارب 54 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
دوسرا اہم منصوبہ میرانی ڈیم سے گوادر تک پانی کی فراہمی سے متعلق ہے، جس پر تقریباً 29 ارب روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ منصوبے کا مقصد گوادر میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اجلاس کے دوران گوادر میں گندے پانی کی صفائی کے لیے جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایکنک سے حتمی منظوری حاصل ہونے سے قبل گوادر واٹر پراجیکٹ کا ٹھیکہ جاری نہ کیا جائے۔
احسن اقبال نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، بروقت تکمیل اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ ان منصوبوں کی منظوری اور ایکنک کو ارسال کیے جانے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی کے شعبوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوگی








