پشاور ویلی ریل منصوبہ، 240 کلومیٹر ٹریک کی اپ گریڈیشن اور نئے روٹس کی منظوری
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی وزارت ریلوے کے درمیان معاہدے کے تحت پشاور کو قریبی اضلاع اور ملک کے دیگر شہروں سے ریل کے ذریعے جوڑنے کے لیے بڑے منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت صوبے میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی، اپ گریڈیشن اور نئے سٹریٹیجک ریلوے روابط قائم کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریباً 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ منصوبے میں پشاور، نوشہرہ، جہانگیرہ روڈ، مردان، درگئی، چارسدہ، ناصرپور، جمرود اور لنڈی کوتل سمیت اہم روٹس شامل ہیں۔
اسی منصوبے کے تحت کوہاٹ سے تھل کے راستے خرلاچی تک تقریباً 192 کلومیٹر نئی ریلوے لائن بھی تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ یہ ریلوے رابطہ پاکستان کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا سے جوڑنے اور علاقائی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
منصوبے میں پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ ریلوے اسٹیشنز کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے کے ساتھ مسافروں کے لیے سہولیات بہتر بنانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں موجود 81 غیر محفوظ ریلوے پھاٹکوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے آئندہ مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کے درمیان ریلوے رابطہ قائم کرنے کے ساتھ مردان، چارسدہ اور پشاور، طورخم ریلوے روابط کو بھی شامل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پشاور کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بس ریپڈ ٹرانزٹ کے ساتھ ٹرین کی سہولت بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق ریلوے روابط میں بہتری سے صوبے میں تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ ملے گا۔








