پاسکو گوداموں سے فلور ملز کو خراب اور پانی لگی گندم کی سپلائی کا انکشاف

پاسکو گوداموں سے فلور ملز کو خراب اور پانی لگی گندم کی سپلائی کا انکشاف

اسلام آباد: پاسکو کے گوداموں سے فلور ملز کو خراب اور پانی لگی گندم کی سپلائی کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ ملز کو فراہم کی جانے والی گندم میں نمی کی شرح 21 فیصد سے بھی زیادہ پائی جانے لگی ہے۔

فلور ملز مالکان کے مطابق گندم میں نمی کی نارمل حد 9 سے 11 فیصد ہونی چاہیے، جبکہ فلور ملز کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے 14 فیصد نمی والا آٹا فراہم کرنے کا پابند کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی 21 فیصد نمی والی گندم سے تیار ہونے والے آٹے کا معیار ناقص ہوتا ہے۔

ملز مالکان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاسکو کے گوداموں سے پانی لگی گندم بھی سپلائی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پانی لگی گندم میں بدبو اور کائی پیدا ہونے کے باعث یہ انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتی۔

فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ پاسکو سے گندم 3800 روپے فی من کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4650 روپے فی من تک ہے۔

ان کے مطابق زیادہ نمی والی گندم کی فراہمی سے سرکاری نرخ پر بھی فی من تقریباً 1100 روپے تک اضافی مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ خراب گندم سے آٹے کے معیار پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

فلور ملز مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاسکو کے گوداموں میں موجود گندم کے معیار اور نمی کی شرح کی شفاف جانچ کی جائے اور خراب یا پانی لگی گندم کی سپلائی کا فوری نوٹس لیا جائے۔

More News