آن لائن فراڈ اور غیر قانونی سمز کے خلاف کارروائی، واٹس ایپ ہیکنگ ختم کرنے کا دعویٰ
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں آن لائن فراڈ، غیر قانونی سمز کے اجرا، بینکنگ فراڈ، واٹس ایپ ہیکنگ اور شہریوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات، غیر قانونی سمز کے استعمال اور ہیکرز کی جانب سے شہریوں کے حساس ڈیٹا تک ممکنہ رسائی پر حکام سے سوالات کیے۔
واٹس ایپ ہیکنگ مکمل ختم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، این سی سی آئی اے
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے آن لائن فراڈ اور دیگر سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔
عام شہری آن لائن فراڈ کا آسان ہدف بن رہے ہیں
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین نے آن لائن فراڈ کے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر ہفتے ایسی کال موصول ہوتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا کورئیر آیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی کالز فراڈ اسکیم کا حصہ ہیں، تاہم عام شہری ان طریقوں سے واقف نہیں ہوتے اور آسانی سے دھوکے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے زور دیا کہ شہریوں کو سائبر فراڈ کے مختلف طریقوں اور جعلی کالز سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔
ہیکرز تک شہریوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا کیسے پہنچتا ہے؟
اجلاس میں شہریوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ شہریوں کے انگوٹھوں کے نشانات کا ڈیٹا ہیکرز تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟
انہوں نے سوال کیا کہ اگر کسی شہری کا بائیومیٹرک ڈیٹا غیر متعلقہ افراد تک پہنچ جائے تو اسے استعمال کرکے بینک اکاؤنٹس تک رسائی اور مالی فراڈ کیسے کیا جاسکتا ہے۔
کمیٹی ارکان نے بائیومیٹرک نظام کو مزید محفوظ بنانے اور شہریوں کے مالی اکاؤنٹس کو سائبر جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔
2009 سے پہلے سم جاری کرنے کی کوئی باقاعدہ پالیسی نہیں تھی، چیئرمین پی ٹی اے
چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 2009 سے پہلے سم جاری کرنے کی کوئی باقاعدہ پالیسی موجود نہیں تھی۔
ان کے مطابق 2014 کے بعد سمز کے اجرا سے متعلق باقاعدہ پالیسی نافذ ہوئی جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران اس حوالے سے مزید سختیاں کی گئی ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ گزشتہ دو برس میں 1.8 کروڑ غیر قانونی سمز بند کی گئی ہیں، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مالی جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران غیر قانونی سمز کے معاملے پر 4.2 ارب روپے کے جرمانے کیے گئے ہیں۔
بند سم یا اکاؤنٹ فیشل یا آئرس شناخت کے بعد ہی بحال کیا جائے، طلال چودھری
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے تجویز دی کہ شہریوں کی شناخت اور مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فیشل یا آئرس ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بند اکاؤنٹ یا سم کے اجرا اور بحالی کے لیے فیشل یا آئرس شناخت کا نظام استعمال کرنے سے کسی دوسرے شخص کی شناخت کے غلط استعمال کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔
بینکوں اور موبائل کمپنیوں میں جدید سیکیورٹی نظام متعارف کرانے کی تجویز
کمیٹی کے ایک رکن نے تجویز دی کہ موبائل کمپنیوں اور بینکوں کو بائیومیٹرک شناخت کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی اور مزید مضبوط سیکیورٹی نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی جائے۔
اجلاس میں ارکان نے کہا کہ آن لائن فراڈ کی روک تھام کے لیے صرف غیر قانونی سمز کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ بینکنگ نظام، موبائل سمز، بائیومیٹرک ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کو ایک مربوط نظام کے تحت محفوظ بنانا ہوگا۔







