بادل کہاں کہاں برسیں گے؟ ممکنہ اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری

بادل کہاں کہاں برسیں گے؟ ممکنہ اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری

آئندہ دو روز کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی کے بعد ممکنہ اربن فلڈنگ اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے الرٹ جاری کردیا ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں سمیت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں بھی شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال سمیت متعدد شہروں میں بارش کے باعث شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ دریائے سندھ، جہلم، چناب اور راوی کے اہم کیچمنٹ ایریاز میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں اس وقت پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، جبکہ دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں بھی صورتحال نارمل ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق بتایا گیا ہے۔

دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 35 ہزار جبکہ چشمہ میں 3 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے۔ نالہ ڈیک کنگرا میں بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تربیلا ڈیم 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 78 فیصد بھر چکا ہے۔

دوسری جانب این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔

گلگت بلتستان کے گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر کے لیے فلش فلڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی میں بھی ممکنہ سیلاب سے خبردار کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان کے شہری علاقوں میں بھی اربن فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، توچی، جہلم، چناب اور راوی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

حکام نے شہریوں کو نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں سے دور رہنے جبکہ غیرضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

More News