پمز میں سہولیات کی کمی پر وزیر صحت برہم، کام نہ کرنے والوں کو فارغ کرنے کی ہدایت

پمز میں سہولیات کی کمی پر وزیر صحت برہم، کام نہ کرنے والوں کو فارغ کرنے کی ہدایت

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے دورے کے دوران اسپتال میں سہولیات کی کمی اور انتظامی مسائل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کام نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کردی۔

وفاقی وزیر صحت نے پمز کے کارڈیک سینٹر اور آئی سی یو کا دورہ کیا اور وہاں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کارڈیک سینٹر میں الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا معائنہ کیا جبکہ زیر علاج مریضوں سے بھی مشکلات دریافت کیں۔

مصطفیٰ کمال نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر سلمان کو ہدایت کی کہ زیر التوا کام جلد مکمل کیے جائیں۔

وفاقی وزیر نے کارڈیک سینٹر میں بیڈز کی کمی کا بھی نوٹس لیا اور کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے، اس لیے وہ اب خود پمز کا دورہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے ڈاکٹرز کو مریضوں کے ساتھ تلخ رویہ اختیار نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عملے کو مریضوں سے بہتر برتاؤ کی تربیت دی جائے۔

پمز کارڈیک وارڈ کے پرائیویٹ رومز کی خراب حالت دیکھ کر بھی مصطفیٰ کمال نے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیواریں خراب ہیں اور صرف اوپر سے رنگ کیا جا رہا ہے، اسپتال کی مناسب مرمت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں وزیر صحت نے آئی سی یو کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مختلف مسائل سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق پمز آئی سی یو میں صرف 10 بیڈز موجود ہیں، جبکہ آگ بجھانے کے مناسب آلات بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی یو کی متعدد اشیا ناکارہ ہوچکی ہیں، عملے کی شدید کمی ہے اور ہنگامی صورتحال میں آگ بجھانے کے لیے صرف سلنڈر موجود ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے انتظامیہ کو واضح ہدایت دی کہ جو ملازم کام نہیں کر رہا اسے فوری طور پر فارغ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نااہل افراد کو روزانہ کی بنیاد پر مرحلہ وار ملازمت سے نکالا جائے اور ان کی جگہ قابل افراد کو فوری بھرتی کیا جائے۔

وزیر صحت نے کہا کہ اسپتال کا نظام سمجھنے کے لیے انتظامیہ کو چھ ماہ نہیں ملیں گے، فوری طور پر کام شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کی روزانہ نگرانی کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے انتظامیہ سے اسپتال کے نئے انتظامی ماڈل اور اختیارات کی منتقلی سے متعلق تجاویز ایک صفحے پر پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فیصلوں میں تاخیر سے پورا نظام متاثر ہورہا ہے۔

More News