چوری یا خیانت کا ڈر؟ نیدرلینڈز نے امریکا اور کینیڈا سے 86 ٹن سونا کیوں منتقل کیا؟

چوری یا خیانت کا ڈر؟ نیدرلینڈز نے امریکا اور کینیڈا سے 86 ٹن سونا کیوں منتقل کیا؟

نیدرلینڈز نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سونے کے ذخائر میں سے 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ کے دارالحکومت لندن منتقل کردیا ہے۔

نیدرلینڈز کے مرکزی بینک (DNB) کے مطابق سونے کی یہ منتقلی کسی ایک ملک پر عدم اعتماد کے بجائے ذخائر کی جغرافیائی تقسیم کو متوازن بنانے اور ممکنہ بحرانی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کا حصہ ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ سونے کے ذخائر کو مختلف مقامات پر رکھنے سے کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والے خطرات کے اثرات کم کیے جاسکتے ہیں۔ لندن میں منتقل کیا گیا سونا نیویارک اور اوٹاوا میں موجود ذخائر کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے عالمی مارکیٹ میں تجارت کیا جاسکتا ہے۔

DNB کے مطابق بحران کی صورت میں سونے کو تیزی سے فروخت کرنے کی صلاحیت انتہائی اہم ہے، اسی لیے لندن کو ذخائر کے ایک حصے کے لیے موزوں مقام سمجھا گیا۔ اس اقدام سے نیدرلینڈز کے مجموعی سونے کے ذخائر کی جغرافیائی تقسیم بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ متوازن ہوگئی ہے۔

سونے کی حالیہ منتقلی سے قبل نیدرلینڈز کے مجموعی ذخائر کا تقریباً 31.3 فیصد حصہ نیویارک میں جبکہ 19.7 فیصد اوٹاوا میں محفوظ تھا۔ نئی منتقلی کے بعد مختلف مقامات پر ذخائر رکھنے کا مقصد کسی ممکنہ جغرافیائی سیاسی بحران، مالیاتی دباؤ یا مارکیٹ میں اچانک تبدیلی کی صورت میں مرکزی بینک کو زیادہ لچک فراہم کرنا ہے۔

نیدرلینڈز کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے مرکزی بینک اپنے سونے کے ذخائر اور مالیاتی اثاثوں کے تحفظ، رسائی اور جغرافیائی تقسیم پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

DNB کے مطابق سونے کو لندن منتقل کرنے کا بنیادی مقصد چوری یا کسی مخصوص ملک پر عدم اعتماد نہیں بلکہ خطرات کو مختلف مقامات پر تقسیم کرنا اور بحران کی صورت میں سونے تک فوری رسائی برقرار رکھنا ہے۔

More News