ہری پور، سوات، چترال، ملاکنڈ اور اورکزئی کے عوام نئے صوبوں کے حق میں بول اٹھے
ہری پور، سوات، چترال، ملاکنڈ اور اورکزئی کے عوام نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آبادی اور مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ایسے میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں کی وجہ سے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور متعلقہ افسران تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ چھوٹے صوبے قائم ہونے سے انتظامیہ عوام کے قریب آئے گی، شکایات پر فوری کارروائی ممکن ہوگی اور شہری اپنے مسائل متعلقہ حکام تک آسانی سے پہنچا سکیں گے۔
شانگلہ اور دیگر دور دراز علاقوں کی مثال دیتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے بھی پشاور کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے 3 سے 4 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت سفر میں صرف ہوجاتا ہے۔ نئے صوبے بننے سے ایسے علاقوں کے عوام کو طویل سفر اور غیر ضروری مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔
شہریوں کے مطابق نئے صوبوں سے نہ صرف انتظامی امور بہتر ہوں گے بلکہ تعلیم، صحت، روزگار، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی مؤثر انداز میں ممکن ہوسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اختیارات اور وسائل عوام کے قریب ہوں گے تو مسائل کے حل میں بھی تیزی آئے گی۔
عوام نے کہا کہ ملک میں جتنے زیادہ انتظامی یونٹ ہوں گے، حکومت اتنی ہی آسانی سے عوام تک پہنچ سکے گی۔ نئے صوبوں کے قیام سے ہر علاقے کی اپنی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی ہوسکے گی اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
شہریوں نے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے مؤثر آواز اٹھائیں اور اس معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے عوامی مفاد کے تناظر میں آگے بڑھائیں۔
عوام کا کہنا تھا کہ نئے صوبے کسی ایک علاقے یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا مفاد ہیں، کیونکہ انتظامی اختیارات عوام کے قریب آنے سے حکومتی اداروں تک رسائی، عوامی شکایات کا ازالہ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی مزید آسان ہوسکتی ہے۔








