حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا فیصلہ

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا فیصلہ

جون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا عبوری ہدف مقرر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نظام میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمتوں کو مکمل طور پر مارکیٹ سے منسلک کرنے اور جون 2027ء تک اسے ڈی ریگولیٹ کرنے کا عبوری ہدف مقرر کرلیا۔

اس حوالے سے پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت ہوا، جس میں پیٹرولیم سیکٹر کے قیمتوں کے طریقہ کار میں اہم اصلاحات کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں آئی ایف ای ایم (IFEM) کا نیا طریقہ کار بھی منظور کیا گیا، جس کے تحت پیٹرول کی قیمتوں کو مارکیٹ کے حالات سے منسلک کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ نئے نظام میں 97 RON HOBC اور 95 RON جیسے ہائی آکٹین مصنوعات کی طرز پر قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل ممکن ہوگا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ ڈیزل کے کریک اسپریڈ میں غیر معمولی اضافہ ہونے کی صورت میں وفاقی کابینہ سے بار بار منظوری لیے بغیر ڈیزل کی قیمت کو عالمی خام تیل کی قیمتوں سے منسلک کرسکے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ہنگامی صورتحال میں صارفین کو ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے سے بچانے کے لیے قواعد پر مبنی مداخلت کی واضح حدود اور اصلاحی اقدامات کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق پیٹرول کی ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں مستقبل میں مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) مارکیٹ میں مسابقت کے تحت اپنی الگ قیمتیں مقرر کرسکیں گی۔ اس سے بعض علاقوں میں صارفین کو نسبتاً سستا پیٹرول دستیاب ہونے کا امکان ہے۔

تاہم مارکیٹ سے منسلک نظام کے تحت صارفین کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور پاکستانی روپے کی قدر میں تبدیلی کے براہِ راست اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نظام میں اصلاحات کا مقصد مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو جدید بنانا اور پیٹرولیم سیکٹر کو بتدریج مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف منتقل کرنا ہے۔

More News