ہر 4 میں سے ایک پاکستانی کو ملک کی سمت درست ہونے کا یقین، ایپسوس کا نیا سروے
صرف 15 فیصد پاکستانی سرمایہ کاری کے حوالے سے پراعتماد، معاشی دباؤ بدستور بڑی تشویش قرار
اسلام آباد: معروف عالمی تحقیقی ادارے ایپسوس (Ipsos) نے پاکستان کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس جاری کردیا، جس کے مطابق معاشی دباؤ اب بھی پاکستانی عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہے، تاہم ملک کے مستقبل کے حوالے سے امید میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
ایپسوس کے تازہ سروے کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک پاکستانی کو یقین ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ مجموعی طور پر ملک کی سمت درست ہونے پر اعتماد رکھنے والوں کی شرح 24 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2024 میں ملک کے درست سمت میں آگے بڑھنے پر اعتماد رکھنے والوں کی شرح صرف 11 فیصد تھی۔ اس طرح موجودہ سروے میں عوامی اعتماد میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، تاہم اب بھی اکثریت ملک کی سمت کے حوالے سے پراعتماد نہیں۔
سروے میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کو پاکستانی عوام کے بڑے معاشی خدشات قرار دیا گیا۔ ہر سات میں سے صرف ایک پاکستانی کا خیال ہے کہ ملک پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔
ایپسوس کے مطابق روزمرہ اور گھریلو ضروریات کی خریداری کے حوالے سے بھی عوام کا اعتماد کمزور ہے۔ 10 میں سے صرف ایک پاکستانی سمجھتا ہے کہ گھریلو یا ذاتی استعمال کی اشیا خریدنا آسان ہے۔
دوسری جانب گھریلو اخراجات پورے کرنے کے حوالے سے عوام کے اعتماد میں گزشتہ سروے کے مقابلے میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم سرمایہ کاری، بڑی خریداریوں اور روزگار کے تحفظ کے معاملے میں اعتماد اب بھی کمزور ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاشی حالات میں بہتری کے اشاروں کے باوجود پاکستانی شہری بڑے مالی فیصلے کرنے سے محتاط ہیں۔ صرف 15 فیصد پاکستانی سرمایہ کاری کے حوالے سے پراعتماد دکھائی دیے۔
ایپسوس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشی بحالی کا عمل محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ معاشی مستقبل کے حوالے سے امید میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن عوام کا مکمل معاشی اعتماد تاحال بحال نہیں ہوسکا۔








