جنوبی خیبر پختونخوا میں نئے صوبوں کا مطالبہ
جنوبی خیبر پختونخوا کے عوام نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کو الگ صوبہ بنایا جائے جبکہ بنوں کو صوبے کا درجہ دے کر شمالی وزیرستان اور لکی مروت کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
عوام کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں چھوٹے انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کا نظام عوام کو فوری ریلیف فراہم کرتا ہے، پاکستان میں بھی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
بنوں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بنوں خطے کا اہم کاروباری مرکز ہے جہاں لکی مروت اور وزیرستان سے بھی بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ نئے صوبے اور میئر کے نظام سے انتظامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
عوام کا کہنا ہے کہ معمولی سرکاری کاموں کے لیے پشاور اور اسلام آباد کے سفر سے وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے، کئی دن قیام، ہوٹل اور کھانے کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اگر مسائل مقامی سطح پر حل ہوں تو عوام کو طویل سفر سے نجات مل سکتی ہے اور انتظامیہ بھی لوگوں کے قریب ہوگی۔
شہریوں کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر انتظامی رسائی، روزگار کے مواقع اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔








