پاکستانی برآمدات کے شعبے میں بڑی پیشرفت، ایس ایم ایز کیلئے نئی انشورنس اسکیم شروع

پاکستان کے برآمدی شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاک ایگزم اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کیلئے نئی انشورنس اسکیم متعارف کرا دی ہے۔

نئی اسکیم کے تحت پہلی بار پاکستانی ایس ایم ای ایکسپورٹرز کو بیرونِ ملک خریداروں سے ملنے والی ادائیگیوں کا تحفظ حاصل ہوگا۔ اگر کسی غیر ملکی خریدار کی جانب سے برآمدی سامان کی رقم ادا نہ کی جائے تو اسکیم کے ذریعے ایکسپورٹرز کو ممکنہ مالی نقصان سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈی میں زیادہ اعتماد کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ ادائیگیوں کے خطرے میں کمی سے ایس ایم ایز نئے غیر ملکی خریداروں کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنے اور بڑے برآمدی آرڈرز حاصل کرنے کی پوزیشن میں آسکیں گے۔

نئی انشورنس اسکیم کے ذریعے ایسے کاروباری افراد کو بھی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی جو بیرونِ ملک خریداروں کی جانب سے ادائیگی نہ ہونے کے خدشے کے باعث بڑے برآمدی معاہدوں سے گریز کرتے رہے ہیں۔

ایکسپورٹرز کی سہولت کیلئے پاک ایگزم نے سیالکوٹ اور فیصل آباد میں دفاتر بھی قائم کیے ہیں، جہاں ایس ایم ای ایکسپورٹرز کو نئی اسکیم کے طریقہ کار، سہولیات اور انشورنس کے حصول سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت پاک ایگزم اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے تقریباً 3 ارب روپے کا رسک پول قائم کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق آئی سی آئی ای سی بھی نئی انشورنس اسکیم کیلئے عالمی سطح پر معاونت فراہم کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسکیم کے نتیجے میں ایس ایم ایز کیلئے برآمدی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے نہ صرف کاروباری اداروں کی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے بلکہ پیداوار اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس اقدام کو پاکستان کے برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی خطرات سے تحفظ ملنے سے پاکستانی مصنوعات کیلئے نئی عالمی منڈیوں میں جگہ بنانے اور ملک کیلئے مزید زرمبادلہ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

More News