عالمی مارکیٹ میں تیل مزید مہنگا، برینٹ 96 ڈالر سے تجاوز کر گیا
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور اہم سمندری راستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
تازہ کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برطانوی برینٹ خام تیل 96.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 91.48 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کی قیمت میں 76 سینٹ جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 18 سینٹ فی بیرل اضافہ ہوا۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت مجموعی طور پر 7.6 فیصد بڑھی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔ عالمی مارکیٹ میں تیزی کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
دوسری جانب 7 ستمبر کو بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور برینٹ تقریباً 97.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 92.26 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ رائٹرز کے مطابق اس دوران برینٹ تقریباً چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات نے عالمی توانائی کی منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کیلئے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، ٹرانسپورٹ اخراجات اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔








