اطالوی شہری کے سامان سے مگرمچھ کا سر برآمد، تحقیقات شروع

اطالوی شہری کے سامان سے مگرمچھ کا سر برآمد، تحقیقات شروع

اٹلی کے شہر ٹورین میں ایک مسافر کے سامان سے مگرمچھ کا سر برآمد ہونے پر حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اطالوی فنانشل پولیس اسکواڈ کے مطابق مذکورہ شخص میامی سے براستہ استنبول اٹلی پہنچا تھا، جہاں مسافروں کے سامان کی اضافی جانچ کے دوران مگرمچھ کا سر برآمد ہوا۔

پولیس حکام کے مطابق معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے مسافروں کی نگرانی اور چیکنگ سخت کی گئی ہے۔ اسی دوران مذکورہ مسافر کے سامان کی تلاشی لی گئی تو اس میں خشک کیا گیا مگرمچھ کا سر موجود تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مگرمچھ کا سر عام پیکنگ پیپر میں لپیٹا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ روانگی کے مقام پر سیکیورٹی چیک سے بچنے میں کامیاب ہوگیا۔ اٹلی پہنچنے کے بعد تلاشی کے دوران حکام نے اسے برآمد کرکے اپنی تحویل میں لے لیا۔

اطالوی حکام نے مسافر کے خلاف محفوظ اور معدومی کے خطرے سے دوچار جانور کے حصے کو ضروری اجازت نامے کے بغیر منتقل کرنے کے الزام میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق اگر الزام ثابت ہوگیا تو مذکورہ شخص کو 20 ہزار سے 2 لاکھ یورو تک جرمانہ یا چھ ماہ سے ایک سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

مگرمچھ ان جانوروں میں شامل ہیں جنہیں واشنگٹن کنونشن، یعنی CITES، کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ 1973 میں قائم ہونے والے اس عالمی معاہدے کا مقصد خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کی روک تھام ہے۔

More News