ایران پر حملوں کا فیصلہ مشیروں کے مشورے سے کیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ویب ڈیسک
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے فیصلے سے متعلق کہا ہے کہ انہیں اس اقدام کی طرف ان کے قریبی مشیروں نے مائل کیا تھا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایسے مرحلے تک پہنچ گئی تھی جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔
ان کے مطابق مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ایران امریکا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی 51 بحری کشتیاں تباہ کی گئیں جبکہ بغیر پائلٹ طیارے بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی نظام موجود ہیں جو ایرانی فضائی خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے بعض تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے تہران کو مزید تنازع سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔ انہوں نے ایران میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایران کی نئی قیادت کے بارے میں صورتحال واضح ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔








