پشاور اسکول حادثہ: نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی انسپکشن، 3 دن میں رپورٹ طلب

پشاور اسکول حادثہ: نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی انسپکشن، 3 دن میں رپورٹ طلب

پشاور: نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی انسپکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ کمیٹیوں کو تین دن کے اندر معائنہ مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ضلعی سطح پر کمیٹیاں نجی اسکولوں کی عمارتوں کا سروے اور موقع پر معائنہ کریں گی۔ ان کمیٹیوں کی سربراہی ضلعی مانیٹرنگ افسران کریں گے، جبکہ متعلقہ ضلعی تعلیمی افسران اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے نمائندے بھی انسپکشن میں حصہ لیں گے۔معائنے کے دوران اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، ستونوں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر حصوں کی حالت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمارتوں میں موجود ممکنہ نقائص اور حفاظتی خطرات کی نشاندہی کرکے اپنی سفارشات رپورٹ میں شامل کریں۔
حکام کے مطابق اسکولوں کی عمارتوں کو محفوظ، مرمت یا بہتری کی ضرورت والی اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ عمارتوں کی مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا۔ انسپکشن کا دائرہ صرف اسکولوں کی اپنی عمارتوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کرائے کی عمارتوں میں قائم نجی تعلیمی اداروں کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔
کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی عمارت میں فوری خطرے کی نشاندہی ہونے پر متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ طلبا، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ ضرورت پڑنے پر خطرناک عمارتوں کی مرمت یا استعمال محدود کرنے کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ فیصلہ پشاور کے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں بچوں اور ایک استاد سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر، رجسٹریشن، انسپکشن اور حفاظتی انتظامات سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اب متعلقہ کمیٹیوں کی رپورٹوں کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کی مجموعی صورتِ حال واضح ہونے اور ضروری حفاظتی اقدامات کی سفارشات سامنے آنے کی توقع ہے۔

More News