افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے خیبرپختونخوا میں کنٹرول رومز قائم، 34 اضلاع سے رپورٹس طلب

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے خیبرپختونخوا میں کنٹرول رومز قائم، 34 اضلاع سے رپورٹس طلب

پشاور: خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر خصوصی کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ صوبے کے 34 اضلاع کے پولیس سربراہان سے جامع رپورٹس طلب کرلی گئی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو 24 گھنٹے ضروری ہدایات فراہم کی جائیں گی، تاکہ افغان شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق اقدامات کی نگرانی اور رابطہ کاری مؤثر انداز میں کی جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں مقیم افغان شہریوں کی رہائش، کاروبار اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کرنے کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں اور بازاروں میں مقیم افغان شہریوں کے نام، رہائشی پتے، دکانوں کی تفصیلات، موبائل نمبرز، بچوں، گاڑیوں اور ذرائع آمدن سے متعلق ڈیٹا مرتب کیا جارہا ہے۔ بیرون ملک مقیم رشتہ داروں اور سرکاری ملازمین یا افسران کے ساتھ ممکنہ رشتہ داریوں کی جانچ پڑتال کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔

اس عمل کا مقصد متعلقہ حکام کو افغان شہریوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنا بتایا جارہا ہے۔ تاہم، وطن واپسی کے لیے حتمی مدت، کنٹرول رومز کے طریقۂ کار اور جمع کیے جانے والے ڈیٹا کے استعمال سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

More News