امریکہ کا افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کا منصوبہ، عدالتی دستاویزات میں انکشاف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکہ میں زیرِ حراست افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو حاصل ہونے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے تحت افغان شہریوں کو پہلے امریکی ریاست لوزیانا سے پاکستان منتقل کیا جائے گا، جہاں سے انہیں افغانستان بھیجا جائے گا۔
انسانی حقوق اور تارکین وطن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد کو طالبان کی انتقامی کارروائیوں اور ممکنہ ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ان تنظیموں کے مطابق ہزاروں افغان شہریوں نے افغانستان سے اس لیے نقل مکانی کی تھی کیونکہ انہوں نے سابق افغان حکومت کے دور میں امریکی فوج اور امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کیا تھا۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسے افراد کو اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات لاحق ہوئے، جس کے باعث انہوں نے امریکہ سمیت دیگر ممالک میں پناہ حاصل کی۔
پاکستان کے راستے ملک بدری کا منصوبہ
عدالتی دستاویزات میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک سینیئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ایک افغان تارک وطن کو لوزیانا کے شہر الیگزینڈریا سے پاکستان جانے والی آئندہ چارٹر پرواز میں شامل کیا گیا تھا۔ دستاویز کے مطابق پاکستان پہنچنے کے بعد اس شخص کو مزید سفر کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جانا تھا۔
یہ دستاویز ریاست ورجینیا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی، جہاں ایک افغان شہری نے اپنی ممکنہ ملک بدری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رکھی ہے۔ دوسری جانب اوکلاہوما کی ایک وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں بھی ایک افغان شہری کو آئندہ ہفتے افغانستان بھیجنے کے منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان شہریوں کی ملک بدری کے لیے کارروائی پیر سے شروع کیے جانے کا ارادہ تھا، جبکہ اس مقصد کے لیے لوزیانا سے پاکستان کے لیے پروازیں چلائی جانی تھیں۔ پاکستان میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے حراستی اور کارروائی کے مراکز بھی موجود ہیں۔
امریکی حکام کا مؤقف اور انسانی حقوق کے خدشات
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان نے اے پی کو بتایا کہ آئی سی ای مستقبل میں ہونے والی ملک بدری کی کارروائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا، کیونکہ اس طرح کی معلومات آپریشنل سکیورٹی اور اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق ہوتی ہیں۔
دوسری جانب افغان شہریوں کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے صدر شان وین ڈائیور نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور متاثرہ افراد کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا کردار اور قانونی پیچیدگیاں
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں بھی ہزاروں تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے تیسرے ممالک میں منتقل کر چکی ہے۔ بعض صورتوں میں ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ امریکہ کے لیے متعلقہ افراد کو براہ راست ان کے وطن واپس بھیجنا ممکن نہیں تھا۔ افغانستان کے معاملے میں طالبان حکومت کے ساتھ امریکہ کے باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونا بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔
ادھر کئی امریکی امیگریشن جج ماضی میں ایسے فیصلے دے چکے ہیں جن میں قرار دیا گیا کہ بعض تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مجوزہ ملک بدری کی فہرست میں شامل افغان شہریوں میں سے کسی کے پاس ایسا عدالتی حکم موجود ہے یا نہیں جو انہیں افغانستان واپس بھیجنے سے روکتا ہو۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے اس معاملے پر بھیجے گئے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ پاکستان کے راستے افغان شہریوں کی ممکنہ واپسی کے منصوبے پر مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔








