مستقبل کے فیصلوں کا اختیار مصنوعی ذہانت کو نہیں دینا چاہیے، سیم آلٹمین

مستقبل کے فیصلوں کا اختیار مصنوعی ذہانت کو نہیں دینا چاہیے، سیم آلٹمین

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کے ذہین ترین سائنسدانوں کی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل رہی ہے، تاہم مستقبل کے اہم فیصلوں کا اختیار مصنوعی ذہانت کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیم آلٹمین نے متحدہ عرب امارات میں ابو ظہبی انٹرنیشنل پیٹرولیم نمائش اور کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے آغاز میں مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز دنیا کے ذہین ترین سائنسدانوں کے برابر صلاحیت نہیں رکھتے تھے، لیکن اب کئی معاملات میں ان سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سال کے آغاز میں مصنوعی ذہانت دفتری نوعیت کے بہت سے کام انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، تاہم اب یہ ایسے کاموں کا بڑا حصہ مکمل کرسکتی ہے۔

اوپن اے آئی کے سربراہ نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے عالمی معیشت اور روزگار پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، لیکن انسانی فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت اور جواب دہی کو ٹیکنالوجی کے استعمال میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو بتدریج یہ اختیار نہیں دینا چاہیے کہ وہ خود طے کرے کہ انسانوں کے لیے کیا بہتر ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو انسانوں کی مدد اور خدمت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ انسانوں کو اس کے تابع ہونا چاہیے۔

سیم آلٹمین نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق اس شعبے کی ترقی کے لیے توانائی کی مسلسل فراہمی، بجلی کی پیداوار اور وسائل کی دستیابی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

More News