سابق وزیر مواصلات اسعد محمود کے گرد گھیرا تنگ ہائی وے منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

سابق وزیر مواصلات اسعد محمود کے گرد گھیرا تنگ، ڈی آئی خان کے ہائی وے منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دورِ وزارت میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کے پانچ اہم سڑک منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ منصوبوں کے ٹینڈرز، نظرثانی شدہ لاگت اور ٹھیکوں کی تقسیم سے متعلق مختلف سوالات سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسعد محمود کے اپریل 2022 سے اگست 2023 تک وفاقی وزیر مواصلات رہنے کے دوران ڈی آئی خان کے پانچ اہم سڑک منصوبوں کے پہلے سے جاری کردہ ٹینڈرز منسوخ کرکے دوبارہ جاری کیے گئے۔ الزام ہے کہ اس عمل کے دوران منصوبوں کی تخمینہ لاگت اور نظرثانی شدہ نرخوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ان منصوبوں میں ٹینڈرنگ کے عمل کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے مقررہ قوانین اور طریقہ کار کی مبینہ خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لیے ٹینڈرز کے عمل پر اثر انداز ہونے اور منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دینے کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بولی دہندگان کی جانچ پڑتال اور ٹھیکوں کی تقسیم کے لیے مقررہ اصولوں کو نظر انداز کیے جانے کے الزامات بھی زیر غور ہیں۔ ان مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث منصوبوں کی اصل لاگت، نظرثانی شدہ بجٹ اور ٹھیکیداروں کو دی جانے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور مانیٹرنگ باڈیز کی جانب سے پانچوں سڑک منصوبوں کے ٹینڈر ریکارڈ، نظرثانی شدہ بجٹ کی فائلوں اور ٹھیکوں کے حصول میں مبینہ طور پر فائدہ اٹھانے والے ٹھیکیداروں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسعد محمود کے دورِ وزارت میں متعلقہ فیصلوں اور این ایچ اے کے بعض افسران کے کردار کی بھی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ممکنہ انکوائری اور قانونی کارروائی کی تیاری سے متعلق بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تاہم ان الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ تاحال فراہم کردہ معلومات میں کسی حتمی تحقیقاتی رپورٹ، سرکاری فیصلے یا کسی عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں

More News