ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ: مارچ 2026 میں خیبرپختونخوا میں 20 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات فراہم

ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ: مارچ 2026 میں خیبرپختونخوا میں 20 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات فراہم

پشاور:جنید طورو

ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا نے مارچ 2026 کے دوران صوبے بھر میں مجموعی طور پر 20,104 مختلف نوعیت کی ایمرجنسیز میں بروقت خدمات فراہم کیں، جن میں 20,002 افراد کو فوری طبی امداد دی گئی۔ ادارے کی جانب سے جاری ماہانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق ہنگامی حالات میں فوری رسپانس اور مؤثر کارروائی کے باعث ہزاروں قیمتی جانوں کو بچانے میں مدد ملی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ سب سے زیادہ کیسز میڈیکل ایمرجنسیز کے تھے۔ مجموعی طور پر 11,994 طبی نوعیت کی ایمرجنسیز رپورٹ ہوئیں، جن میں مریضوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ضرورت پڑنے پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ان ایمرجنسیز میں دل کا دورہ، سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی، شوگر کے پیچیدہ کیسز اور دیگر طبی مسائل شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران 2,613 روڈ ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض کیسز میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ ریسکیو ٹیموں نے حادثات کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو نکالا، ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں فوری طور پر طبی مراکز منتقل کیا۔ سڑکوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات نے ایک بار پھر احتیاطی تدابیر اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

اسی عرصے میں آگ لگنے کے 404 واقعات رپورٹ ہوئے جن پر فائر فائٹنگ ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔ ان واقعات میں رہائشی مکانات، دکانیں، گودام اور دیگر عمارتیں شامل تھیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی انتظامات اور برقی نظام کی باقاعدہ جانچ نہایت ضروری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ کے دوران جرائم سے متعلق 395 ایمرجنسیز بھی موصول ہوئیں، جن میں فائرنگ، جھگڑے اور دیگر پرتشدد واقعات شامل تھے۔ علاوہ ازیں 45 ڈوبنے کے واقعات پیش آئے جن میں ریسکیو اہلکاروں نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے ذریعے متاثرین کو نکالا۔ 16 عمارت گرنے کے حادثات بھی رپورٹ ہوئے جن میں فوری امدادی کارروائیاں کی گئیں، جبکہ 543 دیگر متفرق نوعیت کی ایمرجنسیز پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

مجموعی طور پر ان تمام واقعات میں 443 افراد جاں بحق ہوئے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثات اور ہنگامی صورتحال میں کمی کے لیے عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔

ریفرل سروسز کے تحت ریسکیو 1122 نے 4,218 مریضوں اور زخمیوں کو ڈاکٹروں کی ہدایات پر بہتر علاج کی فراہمی کے لیے ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقل کیا۔ ان میں سے 2,024 مریضوں کو متعلقہ ضلع کے اندر مختلف طبی مراکز منتقل کیا گیا، جبکہ 2,069 افراد کو دیگر اضلاع کے بڑے اور خصوصی ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔ یہ سروس پیچیدہ اور سنگین نوعیت کے کیسز میں مریضوں کو بروقت بہتر طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق ریسکیو 1122 جدید آلات، تربیت یافتہ عملے اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صوبے بھر میں معیاری ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ نہ صرف ہنگامی حالات میں فوری رسپانس کو یقینی بنا رہا ہے بلکہ عوام میں احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات سے متعلق آگاہی بھی پیدا کر رہا ہے تاکہ حادثات کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔

ماہانہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سروسز کا کردار مسلسل اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ تیزی سے بدلتے حالات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں ریسکیو 1122 کی بروقت اور پیشہ ورانہ خدمات عوام کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہو رہی ہیں۔

More News