حکومت نے پیٹرول 137.23 اور ڈیزل 184.49 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا۔

پیٹرول 458.41 اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر مقرر، حکومت کا ٹارگٹڈ سبسڈی پیکج کا اعلان

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ اضافہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے باعث توانائی کی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور 250 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تقریباً 90 فیصد توانائی دبئی اور عمان کی منڈیوں سے حاصل کرتا ہے، جہاں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ یہ بحران گزشتہ چند ہفتوں سے شدت اختیار کر رہا تھا اور حکومت مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عالمی طوفان کو برپا کرنے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں، تاہم اس کے اثرات سے ملک کو مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت نے عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف دینے کے لیے متعدد کفایت شعاری اقدامات کیے، جن میں کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کٹوتی، سرکاری پیٹرول کے استعمال میں کمی اور ترقیاتی فنڈز میں کمی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ سے اب تک حکومت 129 ارب روپے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خرچ کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے ممالک جہاں مالی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے اور بعض جگہوں پر پیٹرول پمپوں پر فوج تعینات کی گئی ہے، تاہم پاکستان میں بروقت فیصلوں کی بدولت ایندھن کی فراہمی میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریلیف صرف ان طبقات تک پہنچایا جائے جو اس کے حقیقی حقدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کا رخ ان افراد کی جانب موڑا جائے گا جنہیں مہنگائی کے باعث سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، تاکہ غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، تاہم یہ سبسڈی ماہانہ صرف 20 لیٹر تک محدود ہوگی۔ اس کے علاوہ چھوٹے زمینداروں کو ایک مرتبہ 1500 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ ڈیزل استعمال کرنے والی پبلک ٹرانسپورٹ اور فریٹ ٹرانسپورٹ کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ٹرک مالکان کو 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی، بڑی مال بردار گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 80 ہزار روپے جبکہ مسافر بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس پیکج کا آئندہ ماہ دوبارہ جائزہ لے گی اور حالات کے مطابق ضروری رد و بدل کیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ فیصلے مشکل ضرور ہیں لیکن ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو طویل المدتی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکام نے قوم سے اتحاد، صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

More News