پشاور ہائیکورٹ کا تھانہ بڈھ بیر سے فرار ملزم کے کیس میں ایس ایچ او کی انکوائری 14 روز میں مکمل کرنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ کا تھانہ بڈھ بیر سے فرار ملزم کے کیس میں ایس ایچ او کی انکوائری 14 روز میں مکمل کرنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے تھانہ بڈھ بیر کی حوالات سے فرار ہونے والے ملزم عمر کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سابق ایس ایچ او کے خلاف جاری انکوائری 14 روز میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق نے ملزم عمر کے والد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ ملزم کے خلاف کیا الزامات ہیں اور سابق ایس ایچ او کے خلاف جاری انکوائری کہاں تک پہنچی ہے؟

پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ تھانہ بڈھ بیر کے سابق ایس ایچ او واجد کے خلاف انکوائری جاری ہے، جس کی تکمیل میں مزید تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے انکوائری کی مدت سے متعلق سوال کیا اور معطل ایس ایچ او کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا۔

پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ معطل ایس ایچ او عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ اس جواب پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک ایس ایچ او کے خلاف انکوائری جاری ہے اور وہ عمرے کے لیے چلے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے پولیس حکام کی تیاری پر بھی سوالات اٹھائے اور ریمارکس دیے کہ اگر انہیں کیس کے بارے میں معلومات نہیں تو باہر کسی ریڑھی والے سے پوچھ لیں۔

عدالت نے سابق ایس ایچ او تھانہ بڈھ بیر واجد کے خلاف جاری انکوائری 14 روز میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔

More News