دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی تیار، پولیس اور سی ٹی ڈی کو اربوں روپے فراہم کیے جائیں گے، گورنر ہاؤس میں بریفنگ

دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی تیار، پولیس اور سی ٹی ڈی کو اربوں روپے فراہم کیے جائیں گے، گورنر ہاؤس میں بریفنگ

پشاور: گورنر ہاؤس پشاور میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال سے متعلق سیکیورٹی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیکرٹری داخلہ امجد علی خان نے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، پولیس کی افرادی قوت، بجٹ اور سیکیورٹی ضروریات سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

سیکرٹری داخلہ امجد علی خان نے بریفنگ میں بتایا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں ضم اضلاع کے لیے پولیس بجٹ کا حصہ صرف 3.2 فیصد تھا۔

امجد علی خان کے مطابق صوبے میں پولیس کی 10 ہزار سے زائد جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی 638 آسامیاں خالی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے 22 اضلاع کے لیے 6 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے تھے، تاہم ان میں سے صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے۔

سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران 3 ہزار 788 دہشت گرد مارے گئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 1,200 اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ کیا جائے گا اور ان کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت رواں سال پولیس کو 70 ارب روپے جبکہ سی ٹی ڈی کو 10 ارب 30 کروڑ روپے فراہم کرے گی۔ پولیس کو افرادی قوت کی 15 فیصد کمی کا سامنا ہے، جسے کم کرکے پانچ فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا اور پولیس کو جدید اسلحہ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے اور ان اقدامات کو سیاسی سرپرستی بھی فراہم کی جائے گی۔

گورنر نے الزام عائد کیا کہ افغانستان، بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے معاملے میں سہولت کاری کر رہے ہیں اور ڈرونز بھی وہاں سے بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ریاست کا ساتھ نہیں دیا، تاہم اس کے اچھے اقدامات کو جاری رکھا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ مرکز سے صوبے کے وسائل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی جگہ ہے، لیکن ان کی وجہ سے کام نہیں چھوڑا جا سکتا۔ گورنر نے پولیس کی خالی آسامیوں کی تعداد 17 ہزار بتاتے ہوئے انہیں جلد پُر کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتی جائے گی۔

More News