افغان شہریوں کی غیرقانونی طریقے سے پاکستان آمد پولیو پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن گئی

افغان شہریوں کی غیرقانونی آمد و رفت پاکستان میں پولیو پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن گئی

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو افغانستان سے وائرس کی منتقلی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کی غیرقانونی طریقے سے پاکستان آمد و رفت ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔ رواں سال پاکستان میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 40 فیصد پولیو کیسز کا جینیاتی تعلق افغانستان میں موجود وائرس سے سامنے آیا ہے، جس نے پاکستان کی پولیو کے خلاف جاری مہم پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں سے حاصل کیے گئے ماحولیاتی نمونوں کے تجزیے میں پولیو وائرس کا تعلق افغانستان میں گردش کرنے والے وائرس سے پایا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کوئٹہ، کراچی، پشاور، جامشورو اور خیبر شامل ہیں، جہاں ماحولیاتی نمونوں میں افغان وائرس کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرحد پار نقل و حرکت کے ذریعے وائرس کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ضلع خیبر کی صورتحال بھی تشویش ناک قرار دی جا رہی ہے، جہاں رواں سال رپورٹ ہونے والے تینوں پولیو کیسز کی جینیاتی ساخت افغانستان میں موجود وائرس سے مماثلت رکھتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک افغانستان میں پولیو کے 50 جبکہ پاکستان میں 9 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ افغانستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً ننگرہار، کابل، قندھار اور ہلمند کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ ان علاقوں میں وائرس کی مسلسل گردش پاکستان کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں پولیو وائرس کے تقریباً 40 فیصد کیسز کا افغانستان میں موجود وائرس سے جینیاتی تعلق ہونا اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ جب تک افغانستان میں پولیو وائرس کی منتقلی کا سلسلہ نہیں رکتا اور سرحدی آمد و رفت کی مؤثر نگرانی یقینی نہیں بنائی جاتی، پاکستان کے لیے پولیو کا مکمل خاتمہ ایک مشکل ہدف رہے گا۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری قومی مہم کے باوجود سرحد پار سے وائرس کی منتقلی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس صورتحال میں سرحدی نگرانی، بچوں کی ویکسینیشن، ماحولیاتی نمونوں کی مسلسل جانچ اور دونوں ممالک کے درمیان انسداد پولیو تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

More News