خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے تحفظات
پشاور:جنید طورو
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبائی کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض رہنماؤں نے تحفظات اور شکوے سامنے لائے ہیں۔ کابینہ میں 6 نئے وزراء، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی کو شامل کیا گیا، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نئے اراکین سے حلف بھی لیا۔
سابق گورنر خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی رہنما شاہ فرمان نے کابینہ میں شامل نئے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کی انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی کے رکن ہیں، تاہم کابینہ کی تشکیل یا توسیع کے حوالے سے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی ان سے کسی نام کی تجویز طلب کی گئی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر نیک محمد نے الزام عائد کیا کہ کابینہ میں نئے افراد کو میرٹ پر شامل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور پارٹی قیادت کارکنوں اور رہنماؤں کے تحفظات سننے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ بعض اراکین کو خاندانی یا سیاسی تعلقات کی بنیاد پر کابینہ میں شامل کیا گیا۔
نیک محمد کے مطابق جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور بنوں جیسے اہم علاقوں کو کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی، جس کے باعث ان علاقوں کے کارکنوں اور عوام میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کابینہ میں توسیع کے بعد سامنے آنے والے یہ اختلافات پی ٹی آئی کے اندرونی تنظیمی اور سیاسی معاملات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ مستقبل میں پارٹی قیادت کو اندرونی مشاورت اور علاقائی نمائندگی کے معاملات پر مزید توجہ دینا پڑ سکتی ہے۔








