ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مئی 2026 کیلئے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے صارفین کیلئے نرخوں میں اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کے سسٹمز پر ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 3.51 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 16.04 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردی گئی ہے۔
اسی طرح سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سسٹم پر بھی ایل این جی مہنگی کردی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن کیلئے ایل این جی کی قیمت میں 3.43 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 16.98 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
اوگرا حکام کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور متعلقہ کارگوز کے نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مئی کے دوران درآمد کی جانے والی چار کارگوز کیلئے نئی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صنعتی شعبے، بجلی کی پیداوار اور گھریلو صارفین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں جبکہ بجلی کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں نے ایل این جی نرخوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صنعتوں کیلئے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیداواری اخراجات بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کیلئے بڑی مقدار میں ایل این جی درآمد کرتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر مقامی نرخوں پر پڑتا ہے۔








