وزیراعظم شہباز شریف کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ یہ ملاقات پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل ہونے کے موقع پر ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وزیراعظم لی چیانگ کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اترنے والی شراکت داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، اسٹریٹجک تعاون، امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات پر مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے پر تیزی سے عملدرآمد کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک منصوبے خطے میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان چینی سرمایہ کاری اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
ملاقات میں خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سائنسی اور تکنیکی تعاون کی واضح مثال ہے۔
دونوں ممالک نے قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے، جاری منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور پاک چین شراکت داری کو عملی، نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں اقتصادی اور سفارتی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔








