بجٹ پر مشاورت کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر مشاورت کے لیے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجٹ ایک انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے، اس لیے آئینی، قانونی اور انسانی بنیادوں پر ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
درخواست کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کر چکی ہے، تاہم اسے حتمی منظوری اور سیاسی رہنمائی کے لیے عمران خان سے مشاورت ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ بجٹ سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبائی بجٹ براہ راست عوامی مفاد، ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی ترجیحات سے جڑا ہوا معاملہ ہے، لہٰذا اس حوالے سے سیاسی قیادت سے مشاورت ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق بجٹ دستاویزات تیار ہو چکی ہیں اور ان کی حتمی منظوری کے لیے عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔
یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب ملک بھر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ وفاقی حکومت بھی 10 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومتیں اپنے اپنے بجٹ کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی بجٹ میں صوبے کے لیے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کی کم شمولیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں خیبرپختونخوا کے صرف چھ منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جو صوبے کی ضروریات اور ترقیاتی تقاضوں کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں خیبرپختونخوا کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص نہیں کیے گئے، جس سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی وسائل کی تقسیم میں تمام صوبوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے اور خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حصہ فراہم کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اہم مالیاتی اور سیاسی فیصلوں میں پارٹی قیادت کی مشاورت کو ضروری سمجھتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں صوبے کے حصے سے متعلق تحفظات مستقبل میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مزید سیاسی بحث کا باعث بن سکتے ہیں۔
اب اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے درخواست پر ہونے والی کارروائی اور ممکنہ فیصلہ اس معاملے کی آئندہ سمت کا تعین کرے گا








