بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی فہرست میں نام شامل کرنے کے خلاف مینا خان آفریدی کا عدالت سے رجوع

بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی فہرست میں نام شامل کرنے کے خلاف مینا خان آفریدی کا عدالت سے رجوع

پشاور:کاشف عارف

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے اپنے اور دیگر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کے نام بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی فہرست اور صوبائی نگرانی فہرست میں شامل کیے جانے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پابندیوں کے باعث منتخب نمائندے اپنی سرکاری ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام نہیں دے پا رہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے متعدد اراکین کے نام مختلف نگرانی فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا اپنا نام بھی بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی فہرست میں شامل ہے، جس کی وجہ سے وہ اہم سرکاری اور تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت سے محروم ہو رہے ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ان کے محکمے کے تحت جامعات اور کالجوں سے متعلق متعدد بین الاقوامی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے سلسلے میں بیرونِ ملک دورے اور اجلاس ناگزیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے لیے انہیں جرمنی جانا ہے، تاہم ان کا نام پابندی کی فہرست میں ہونے کے باعث وہ یہ دورہ نہیں کر پا رہے۔

مینا خان آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی اراکین کو صرف اس وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے کہ وہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت مختلف طبقات کے لیے مختلف معیار اپنائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض صوبوں کے وزراء اور حکومتی شخصیات بیرونِ ملک دورے کر رہی ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں کو سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے لیے بھی سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے اور پاکستان تحریک انصاف میں بھی مختلف معاملات پر آراء کا فرق پایا جاتا ہے۔ تاہم اختلافِ رائے کو فارورڈ بلاک یا پارٹی کے اندر کسی بحران سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت تمام اراکین سے رابطے میں ہے اور ہر رکن کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اندرونی سطح پر کسی خطرے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود تمام اراکین بانی پاکستان تحریک انصاف کے نام اور عوامی حمایت کی بنیاد پر منتخب ہو کر آئے ہیں اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور سیاسی مؤقف پر پارٹی کے تمام پارلیمانی اراکین متفق ہیں اور یہی اتحاد مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت ان کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی تاکہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں اور بین الاقوامی تعلیمی سرگرمیوں میں بلا رکاوٹ حصہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو سرکاری اور عوامی مفاد کے امور انجام دینے سے روکنا نہ صرف جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے صوبے کے تعلیمی اور ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

More News