پی ٹی آئی کے ناراض رکن ادریس خٹک برس پڑے، آڈیو لیک نے نئی بحث چھیڑ دی

پی ٹی آئی کے ناراض رکن ادریس خٹک برس پڑے، آڈیو لیک نے نئی بحث چھیڑ دی

پشاور:عارف اکرام

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے ناراض رکن صوبائی اسمبلی ادریس خٹک کی ایک آڈیو لیک منظرعام پر آئی ہے جس میں انہوں نے پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اہم سیاسی اور تنظیمی معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

لیک ہونے والی آڈیو میں ادریس خٹک نے کہا کہ حالیہ اعلامیے کے بعد ایسا تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا پارٹی کے اندر ایک جرم سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کے مطابق بانی چیئرمین کی رہائی کا مطالبہ دراصل پارٹی کے بنیادی سیاسی مؤقف کا حصہ ہے، جسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔

ادریس خٹک نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین کی رہائی کے مطالبے کو اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ بعض اوقات خود پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی رہنما یا رکن اسمبلی اس حوالے سے آواز بلند کرے گا، اس کے خلاف نوٹسز جاری کیے جانے کا تاثر موجود ہے، جو پارٹی کے اندرونی جمہوری کلچر کے منافی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک نظریاتی جماعت ہے اور اس کی پہچان بانی چیئرمین سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے کسی بھی رہنما کو یہ کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ اس بنیادی سیاسی شناخت کو کمزور کرے یا اس کا متبادل بننے کی کوشش کرے۔

ادریس خٹک نے اپنے موقف میں کہا کہ وہ اور ان کے ہم خیال اراکین مسلسل بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور ہر فورم پر اس مطالبے کو اجاگر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مؤقف کو جرم سمجھا جاتا ہے تو وہ یہ مؤقف بار بار دہراتے رہیں گے۔

انہوں نے پارٹی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ناراض اراکین کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق محض اعلامیے یا نوٹسز کے ذریعے اختلافات کو دبانے سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ادریس خٹک کی لیک ہونے والی آڈیو نے تحریک انصاف کے اندر جاری اختلافات اور مختلف گروپس کے درمیان کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی اندرونی بے چینی مستقبل میں تنظیمی چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے

More News