امریکا اور ایران عبوری معاہدے کے قریب، منجمد اثاثوں پر اختلافات برقرار، خبر ایجنسی

امریکا اور ایران عبوری معاہدے کے قریب، منجمد اثاثوں پر اختلافات برقرار

واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کے طریقہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

بین الاقوامی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ اگرچہ خطے میں کشیدگی اور محدود نوعیت کی جھڑپوں نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم فریقین مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے اور ایک قابلِ قبول عبوری فریم ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی تفصیلات پر مسلسل پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ مذاکرات کا بنیادی محور ایران کے وہ اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے ہیں جو مختلف پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک منجمد ہیں۔ ان اثاثوں میں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہے، جس تک تہران رسائی حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ معیشت کو درپیش مشکلات اور مالی دباؤ کے پیشِ نظر کم از کم 6 سے 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ دوسری جانب امریکی حکام اس رقم کی براہِ راست اور یکمشت واپسی کے حق میں نہیں ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی مالیاتی سہولت دی جاتی ہے تو اسے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مرحلہ وار اور سخت نگرانی کے تحت فراہم کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایسے کسی انتظام پر غور کر رہا ہے جس کے تحت رقوم براہِ راست ایرانی حکومت کے بجائے مخصوص انسانی ضروریات، ادویات، خوراک اور دیگر فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکیں۔ اس حوالے سے مختلف متبادل طریقہ کار زیرِ غور ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ عبوری معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ حالیہ کشیدگی اور محدود جھڑپیں کسی بڑے سفارتی اعلان سے قبل دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اگرچہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی اہم نکات پر اتفاق رائے درکار ہے، تاہم جاری سفارتی رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران دونوں تصادم کے بجائے مذاکرات کے راستے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

More News