ایس ای سی پی کا اکنامک سروے جاری, پاکستان سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی مثالی قرار

ایس ای سی پی کا اکنامک سروے جاری، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی مثالی قرار

کراچی: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مالی سال 2025-26 کے حوالے سے اپنا اکنامک سروے جاری کر دیا ہے، جس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی کارکردگی کو غیر معمولی اور مثالی قرار دیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق ملکی سرمایہ بازار نے مختلف معاشی اور جغرافیائی چیلنجز کے باوجود نمایاں ترقی کا مظاہرہ کیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

اکنامک سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل رہی۔ خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال جیسے عوامل کے باوجود بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 18.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

سروے کے مطابق مارکیٹ کی مجموعی مالیت (مارکیٹ کیپٹلائزیشن) بڑھ کر 16.5 کھرب روپے تک پہنچ گئی، جو سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کی عکاس ہے۔ اسی طرح یومیہ اوسط تجارتی حجم میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 834 ملین حصص سے بڑھ کر 1.2 ارب حصص تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایس ای سی پی نے اپنی رپورٹ میں اس پیش رفت کا کریڈٹ ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور سرمایہ کار دوست اقدامات کو دیا ہے۔ سروے کے مطابق کمیشن کی پالیسیوں اور نگرانی کے مؤثر نظام کے باعث کاروباری ماحول میں بہتری آئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران 31 ہزار 986 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جو کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 101 تک پہنچ گئی ہے۔

اکنامک سروے کے مطابق نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 67 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اسلامی مالیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث شریعہ کمپلائنس سیکیورٹیز کا حصہ مارکیٹ کی مجموعی کیپٹلائزیشن کے 64 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ بتدریج مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

More News