خیبرپختونخوا حکومت نے 2170 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
پشاور:عارف اکرام
خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2 ہزار 170 ارب روپے حجم کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے سمیت ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 524 ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کے لیے ایک ہزار 645 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ میں 48 ارب روپے خسارے کا تخمینہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے 35 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 5 ہزار روپے اضافہ کرتے ہوئے اسے 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
امن و امان کے شعبے کے لیے 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ گڈ گورننس روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
فلاحی منصوبوں کے تحت احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے اور صحت کارڈ پروگرام کے لیے 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ایم ٹی آئیز ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ میں پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے، پشاور بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب روپے اور خوشحال ہزار پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین روپے جبکہ احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی 2 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے الیکٹرک بائیکس اور رکشہ منصوبے کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے۔
شعبہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب روپے جبکہ تعلیم کے لیے 468 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح محکمہ بلدیات کے لیے 90 ارب روپے، محکمہ داخلہ کے لیے 29 ارب روپے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 14 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ میں زراعت کے لیے 29 ارب روپے، توانائی کے لیے 42 ارب روپے اور زکوٰۃ پروگرام کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق بجٹ کا مقصد ترقیاتی عمل کو تیز کرنا، عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دینا اور صوبے کی معاشی سرگرمیوں کو مستحکم بنانا ہے۔








