جنگ بندی کے 60 دنوں میں آبنائے ہرمز پر کوئی ٹول عائد نہیں ہوگا، ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی 60 دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور عالمی توانائی کی ترسیل کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی آبنائے ہرمز میں ٹول نافذ نہیں کیا جائے گا، جب تک امریکا خود ایسا کرنے کا فیصلہ نہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا خطے میں استحکام اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
امریکی صدر کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والا معاہدہ کسی بھی وجہ سے ناکام ہو جاتا ہے تو امریکا خطے میں فراہم کی جانے والی سیکیورٹی اور حفاظتی خدمات کے بدلے مالی معاوضے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے “نگہبان فرشتہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی پالیسی کا مقصد خطے میں تنازعات کے خاتمے، تجارتی راستوں کے تحفظ اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور اس کی مسلسل فعالیت دنیا بھر کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب ایران امریکا معاہدے پر اسرائیل میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا کے بعض حلقے بھی امریکی صدر کے فیصلوں پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ٹی وی پروگرام کے میزبان نے اپنے تبصرے میں غیر معمولی انداز اپناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کے ساتھ “حسین” کا اضافہ کر دیا۔ میزبان نے کہا کہ “یہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ ڈونلڈ حسین ٹرمپ ہیں”، کیونکہ انہوں نے اسرائیل کے مفادات کے مطابق اقدامات نہیں کیے۔
اسرائیلی میڈیا میں آنے والے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکا معاہدے اور جنگ بندی کے حوالے سے اسرائیل کے اندر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جبکہ خطے کی سیاسی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔








