پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا حکومت کو انتباہ، محرم کے بعد صوبہ گیر احتجاج کا اعلان
پشاور:عارف اکرام
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) خیبر پختونخوا نے کڈنی سنٹر سے 19 کوالیفائیڈ میڈیکل آفیسرز کی برطرفی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے محرم الحرام کے بعد صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی ڈی اے کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر ظاہر نے کہا کہ 19 میڈیکل آفیسرز کو صرف اس بنیاد پر فارغ کیا گیا کہ وہ سول سرونٹس تھے، جبکہ ان کی جگہ کوئی متبادل انتظام بھی نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول یہ اقدام ادارے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر زبیر ظاہر کا کہنا تھا کہ کڈنی سنٹر پہلے ہی فیکلٹی کی شدید کمی کا شکار ہے اور رینل ٹرانسپلانٹ، اینڈرولوجی اور نیفرولوجی جیسے سپر اسپیشلٹی شعبوں میں ماہر ڈاکٹروں کی قلت کے باوجود تجربہ کار ڈاکٹرز کو فارغ کرنا مریضوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چلڈرن یورولوجی وارڈ میں صرف ایک فیکلٹی ممبر موجود ہے جبکہ مریضوں کو آپریشن کے لیے 2031 اور 2032 تک کی تاریخیں دی جا رہی ہیں، جو عوامی صحت کے نظام کی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
چیئرمین پی ڈی اے نے کہا کہ صوبے کے واحد یورولوجی سپر اسپیشلٹی ہسپتال سے تجربہ کار ڈاکٹروں کی واپسی نہ صرف طبی عملے بلکہ عوام کے حقوق پر بھی ضرب ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ محرم کے بعد کڈنی سنٹر کے ڈائریکٹر کی مبینہ انتظامی بدعنوانیوں، اختیارات کے غلط استعمال، صحت کارڈ اور آئی بی پی پروگرام میں مریضوں سے اضافی وصولیوں اور دیگر ادارہ دشمن فیصلوں کو متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ڈاکٹر زبیر ظاہر کے مطابق محکمہ صحت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا جبکہ ڈاکٹروں کی تنخواہوں، ہسپتالوں کی سیکیورٹی، محکمہ صحت میں کرپشن اور پروموشنز سمیت کئی اہم مسائل تاحال حل طلب ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو محرم الحرام کے بعد احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے صوبے تک وسیع کیا جائے گا۔








