حکومت کی اپوزیشن کو ایک بار پھر میثاقِ جمہوریت کی دعوت، خواجہ آصف کا ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر زور
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر میثاقِ جمہوریت (چارٹر آف ڈیموکریسی) کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیں ماضی کی غلطیوں کو درست کریں اور ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر پارٹی مفادات کے حق میں فیصلے کیے گئے، جس سے پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے سیاسی ماضی کا جائزہ لے اور جمہوری رویوں کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے۔
خواجہ آصف نے بانی پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا اور سیاسی روایات کو کمزور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
وزیر دفاع نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کیونکہ ان کی اپنی سیاسی روایات اور نظریاتی شناخت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف میں نہ جمہوری کلچر موجود ہے اور نہ ہی سیاسی روایات کا احترام، جبکہ اس جماعت نے ملکی سیاست سے تہذیب اور برداشت کے عناصر کو کمزور کیا ہے۔
خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات سے بالاتر ہو کر جمہوری استحکام، پارلیمانی بالادستی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گی۔








