دیامر کے علاقے تھور میں کلاؤڈ برسٹ، سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی
دیامر: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے نواحی علاقے تھور میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلاب کے نتیجے میں متعدد مکانات، زرعی زمینیں، کھڑی فصلیں، رابطہ سڑکیں، ایک مسجد، مال مویشی، گاڑیاں اور واپڈا کالونی شدید متاثر ہوئی، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق سیلاب سے تھور کے علاقوں شیتن، اینگر اور تھور میک سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں زرعی اراضی، کھڑی فصلیں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک مقامی مسجد بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی جبکہ واپڈا کالونی کو بھی نقصان پہنچا۔
حکام نے بتایا کہ گولڈ پلیسر کے ذریعے نکالا گیا تقریباً 200 گرام سونا بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ دو مقامات پر رابطہ سڑکیں بحال کر دی گئی ہیں جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ معمولات زندگی جلد از جلد بحال کیے جا سکیں۔
ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے دوران متاثرہ مکان کے قریب واپڈا کالونی سے چار لاکھ روپے نقد رقم ملی، جسے امانت داری کی مثال قائم کرتے ہوئے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی امتیاز احمد کے مطابق ادارے کا فیلڈ اسٹاف متاثرہ علاقوں میں موجود ہے اور متاثرہ خاندانوں میں اشیائے خوردونوش، خیمے اور دیگر ضروری امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔








