خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کے لیے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری

خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کے لیے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری

پشاور(نیوز ڈیسک ) خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کے خصوصی امدادی پیکیج کی منظوری دے دی۔

یہ فیصلہ وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری کی زیر صدارت اسسمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

حکام کے مطابق اجلاس میں مجموعی طور پر 173 درخواستوں پر غور کیا گیا، جن میں سے 167 مستحق افراد اور خاندانوں کے لیے مالی امداد کی منظوری دی گئی۔ امداد کے لیے زخمی افراد، بیوہ خواتین، یتیم بچوں، غیر شادی شدہ بیٹیوں اور معذور افراد کو اہل قرار دیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام کیسز کی منظوری ضلعی اور محکمانہ سطح پر مکمل جانچ پڑتال کے بعد دی گئی، جبکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ہر درخواست کی دوبارہ تصدیق بھی کی گئی۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی خاتون ایک سے زائد امدادی زمروں میں شامل ہو تو اسے صرف ایک ہی زمرے کے تحت مالی معاونت دی جائے گی۔ مستقل معذوری کے سات کیسز میں سے چھ کو مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی سے مشروط طور پر منظور کیا گیا۔

اجلاس میں مردان میں گوردوارہ سنگھ سبھا حملے سے متاثرہ خاندان کے لیے 40 لاکھ روپے امداد کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ شہید جگن ناتھ اور ان کی اہلیہ کے قانونی ورثا کو بھی مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی مدد ریاستی، قومی اور انسانی ذمہ داری ہے، اور صوبائی حکومت اقلیتی برادریوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

More News