بینک آف خیبر میں مبینہ بے ضابطگیوں پر ایمل ولی خان کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
پشاور(نیوز ڈیسک )عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے بینک آف خیبر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور انتظامی معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ بینک آف خیبر سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، اس لیے حقائق عوام کے سامنے لانے کے لیے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر صوبے کا ایک اہم مالیاتی ادارہ ہے اور اس سے متعلق کسی بھی معاملے کا براہِ راست اثر ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینک کے مالی، انتظامی اور قانونی معاملات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور انٹرنل آڈٹ رپورٹس بھی منظرعام پر لائی جائیں۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے بینک کے انتظامی ڈھانچے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبے کی نمائندگی اور منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی سے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر واضح مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے۔
ایمل ولی خان نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل اور اداروں کا تحفظ ناگزیر ہے اور عوامی مفاد کے معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اداروں میں شفافیت، میرٹ اور مؤثر احتساب کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔








