ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ مسترد، آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
لوئر دیر: چکدرہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا غربت، بدامنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے حالات میں ٹیکس کا نفاذ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں روزگار، صنعت اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی کے باعث نئے ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ثابت ہوں گے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور چیف ایگزیکٹو ٹیکس کے معاملے پر مؤثر کردار ادا کریں۔ گورنر نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ اس مسئلے پر کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے تو واضح طور پر بتائیں، پھر وہ خود اس معاملے کے حل کے لیے اقدامات کریں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابق فاٹا کے لیے وفاق کی جانب سے اعلان کردہ 100 ارب روپے تاحال جاری نہیں کیے گئے، جبکہ میڈیا پر قدغن لگانے سے متعلق صوبائی حکومت کا قانون بھی قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد صحافت عوام کی آواز ہے اور اسے کسی قانون کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔
کانفرنس کے مقررین نے اعلان کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹیکس کے خلاف احتجاجی تحریک، آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھنے اور تمام سیاسی جماعتوں و تاجر تنظیموں کے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کا بھی اعلان کیا۔








