پشاور ہائی کورٹ کا جنگلات کی کٹائی پر سخت نوٹس، حکومت سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی اور پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
جسٹس ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جنگلات کے تحفظ سے متعلق درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے کیے گئے عملی اقدامات کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں اور بتایا جائے کہ پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ہوٹلوں کی تعمیر روکنے کے لیے کیا قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیاحتی علاقوں میں بے ہنگم آبادی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات جنگلات کی تیزی سے کٹائی کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں، جبکہ ضم شدہ اور آباد اضلاع میں جنگلات کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ عدالت کے مطابق جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور بظاہر صوبائی حکومت اس اہم مسئلے سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ حمزہ جمشید جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اسد جان درانی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔








