شمالی وزیرستان میں داخلہ مہم بری طرح ناکام، 26 ہزار کے ہدف کے مقابلے میں صرف 165 بچوں کا داخلہ
میرانشاہ: شمالی وزیرستان میں سرکاری اسکولوں کی داخلہ مہم انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی، جہاں محکمہ تعلیم مقررہ ہدف کا صرف ایک فیصد حاصل کر سکا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں تعلیمی سال کے دوران ضلع میں 26 ہزار 873 نئے طلبہ کے داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب تک صرف 165 بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کیا جا سکا، جو مجموعی ہدف کا محض ایک فیصد بنتا ہے۔
مقامی سماجی حلقوں اور والدین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان جیسے پسماندہ ضلع میں پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی ہے، ایسے میں داخلہ مہم کی ناکامی انتہائی افسوسناک ہے۔
تعلیمی مبصرین کے مطابق اس ناکامی کی اہم وجوہات میں اساتذہ کی غیر حاضری، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، مانیٹرنگ کے ناقص نظام اور محکمہ تعلیم کی کمزور کارکردگی شامل ہیں۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم کے حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں لایا، جبکہ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ داخلہ مہم کی ناکامی کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ہزاروں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لایا جا سکے۔







