نورین نیازی کے بیان پر قانونی کارروائی کا آغاز، عمران خان اور ان کے خاندان پر پاکستان مخالف بیانیے کا الزام: طلال چودھری
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، ان کے خاندان اور خصوصاً نورین نیازی کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نورین نیازی کے متنازع بیان پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور ان کے خاندان کا ہدف پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے اور ان کی جانب سے دیے جانے والے بیانات ریاستی اداروں، قومی سلامتی اور ملکی مفادات کے خلاف ہیں۔
طلال چودھری نے کہا کہ نورین نیازی کا حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کے بقول اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عناصر پاکستان کے خلاف پراکسیز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے خاندان کا بیانیہ مسلسل ریاستی اداروں اور پاکستان کے مفادات کے خلاف رہا ہے، جسے حکومت کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ قومی چیلنجز میں کامیابی حاصل کی، جسے پوری قوم نے سراہا، تاہم بعض سیاسی عناصر اس کامیابی کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کے باوجود پاکستان نے کامیابی حاصل کی، لیکن کچھ حلقے قومی بیانیے کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ماضی میں بھی ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے، عالمی مالیاتی ادارے کے باہر احتجاج کیے گئے اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ملک کو معاشی بحران اور ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا جا سکے۔
طلال چودھری نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کے استحکام، قومی سلامتی اور معیشت کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی یا بیان کو برداشت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام معاملات سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بھی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم کے سلسلے میں طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نوٹس کے مطابق نورین نیازی کو 20 جولائی کو دن 12 بجے اسلام آباد میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا، تضحیک آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ این سی سی آئی اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر نورین نیازی مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہوئیں تو قانونی تقاضوں کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق قومی سلامتی، ریاستی اداروں اور ملکی مفادات کے خلاف کسی بھی سرگرمی سے سختی سے نمٹا جائے گا، جبکہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں۔







